احرام کے پانچ میقات: عمرہ اور حج کے لیے مکمل رہنمائی

عمرہ ترتیبات

10 اکتوبر، 2026

احرام کے پانچ میقات: عمرہ اور حج کے لیے مکمل رہنمائی

احرام کے لیے پانچ میقات: پاکستان اور دنیا بھر سے آنے والے زائرین کے لیے سفری رہنما

ہر سال پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک سے ہزاروں مسلمان حج اور عمرہ کے لیے مکہ مکرمہ کا سفر کرتے ہیں۔ اس سفر کی منصوبہ بندی کرتے وقت پانچ میقات کے مقامات، ان کی جغرافیائی حیثیت اور مکہ مکرمہ سے ان کے اندازاً فاصلے کو سمجھنا مفید ہے۔

میقات ان مخصوص جغرافیائی حدود کو کہا جاتا ہے جو مکہ مکرمہ کی طرف آنے والے مختلف سفری راستوں سے متعلق ہیں۔ پانچ مشہور میقات ذوالحلیفہ، جحفہ، قرن المنازل، یلملم اور ذاتِ عرق ہیں۔ ہر میقات تاریخی طور پر ایک مخصوص علاقے یا سمت سے آنے والے مسافروں کے راستے سے وابستہ ہے۔

پاکستان سے حج و عمرہ کے لیے آنے والوں کی میقات

پاکستان سے سعودی عرب آنے والے زائرین کے لیے متعلقہ میقات کا تعین عموماً اس بات سے ہوتا ہے کہ وہ براہِ راست جدہ پہنچتے ہیں یا پہلے مدینہ منورہ جاتے ہیں۔

1۔ پاکستان سے جدہ کا فضائی سفر

پاکستان سے آنے والے بہت سے زائرین جدہ کے کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچتے ہیں اور وہاں سے مکہ مکرمہ روانہ ہوتے ہیں۔ پرواز کے راستے کے مطابق جہاز قرن المنازل یا اس کی محاذات سے گزر سکتا ہے۔

قرن المنازل کو عام طور پر السیل الکبیر کے علاقے سے منسوب کیا جاتا ہے، جو طائف کے قریب واقع ہے۔ یہاں سے مکہ مکرمہ کا سڑک کے ذریعے فاصلہ تقریباً 75 سے 80 کلومیٹر ہے، تاہم اصل فاصلہ منتخب راستے کے مطابق مختلف ہوسکتا ہے۔

پاکستان سے جدہ آنے والے مسافروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی پرواز کے راستے اور متعلقہ میقات کے بارے میں پہلے سے معلومات حاصل کریں۔

2۔ پاکستان سے مدینہ منورہ اور پھر مکہ مکرمہ

بعض زائرین پاکستان سے پہلے مدینہ منورہ جاتے ہیں، وہاں قیام کرتے ہیں اور اس کے بعد مکہ مکرمہ روانہ ہوتے ہیں۔

مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ آنے والے راستے پر ذوالحلیفہ واقع ہے، جسے آج کل ابیارِ علی بھی کہا جاتا ہے۔ یہ مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ جانے والے مسافروں کے لیے معروف میقات ہے۔

ذوالحلیفہ سے مکہ مکرمہ کا سڑک کے ذریعے فاصلہ تقریباً 420 سے 450 کلومیٹر ہے۔ اصل فاصلہ سفر کے راستے کے مطابق مختلف ہوسکتا ہے۔

پاکستان کے علاوہ بھارت، انڈونیشیا، ملائیشیا اور دیگر ممالک سے آنے والے وہ زائرین بھی اس میقات سے گزرتے ہیں جو پہلے مدینہ منورہ آتے ہیں اور بعد میں مکہ مکرمہ جاتے ہیں۔

3۔ بحری راستے سے آنے والے زائرین

یلملم تاریخی طور پر یمن اور مکہ مکرمہ کی جنوبی سمت سے آنے والے مسافروں کے راستے سے متعلق ہے۔ برصغیر سے آنے والے مسافروں کے روایتی بحری راستوں کو سمجھنے کے لیے بھی اس مقام کی جغرافیائی حیثیت اہم ہے۔

یلملم سے مکہ مکرمہ کا اندازاً فاصلہ 100 سے 120 کلومیٹر بتایا جاتا ہے۔ یہ فاصلہ مقام اور پیمائش کے طریقے کے مطابق مختلف ہوسکتا ہے۔

پانچوں میقات کے مقامات اور فاصلے

1۔ ذوالحلیفہ (ابیارِ علی)

مکہ مکرمہ سے اندازاً فاصلہ: سڑک کے ذریعے 420 سے 450 کلومیٹر

متعلقہ علاقہ: مدینہ منورہ، سعودی عرب

ذوالحلیفہ مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ جانے والے مسافروں کی معروف میقات ہے۔ اسے موجودہ دور میں ابیارِ علی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ مدینہ منورہ کے مرکزی علاقے کے جنوب مغرب میں مکہ مکرمہ جانے والے راستے پر واقع ہے۔

پاکستان اور دیگر ممالک سے آنے والے وہ زائرین جو پہلے مدینہ منورہ پہنچتے ہیں، ان کے لیے یہ مقام خاص اہمیت رکھتا ہے۔ مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ تک سفر کرنے والے مسافر اپنے سفری منصوبے میں اس مقام کو شناخت کرسکتے ہیں۔

2۔ جحفہ (رابغ کے قریب)

مکہ مکرمہ سے اندازاً فاصلہ: رابغ کے علاقے سے تقریباً 180 سے 190 کلومیٹر

متعلقہ علاقے: شام اور شمال مغربی خطے کے تاریخی سفری راستے

جحفہ مکہ مکرمہ کے شمال مغرب میں واقع تاریخی میقات ہے۔ اس کے قریب رابغ کا علاقہ موجود ہے، جسے آج کل جغرافیائی حوالے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

یہ مقام تاریخی طور پر شام اور اس کے آس پاس کے علاقوں سے آنے والے مسافروں کے راستے سے وابستہ ہے۔ مصر اور شمالی افریقہ کی سمت سے آنے والے بعض روایتی راستوں کو سمجھنے کے لیے بھی اس کا ذکر کیا جاتا ہے۔

جدید دور میں کسی مسافر کے لیے اس میقات کی مناسبت کا انحصار اس کے اصل سفری راستے پر ہوتا ہے۔

3۔ قرن المنازل (السیل الکبیر)

مکہ مکرمہ سے اندازاً فاصلہ: سڑک کے ذریعے 75 سے 80 کلومیٹر

متعلقہ علاقہ: نجد اور وسطی سعودی عرب

قرن المنازل کو عام طور پر السیل الکبیر سے منسوب کیا جاتا ہے، جو طائف کے قریب مکہ مکرمہ کے مشرقی جانب واقع ہے۔ یہ میقات مکہ مکرمہ کی طرف مشرقی سمت سے آنے والے راستوں کو سمجھنے کے لیے اہم ہے۔

وسطی سعودی عرب سے آنے والے مسافروں اور بعض بین الاقوامی پروازوں کے راستے میں اس میقات یا اس کی محاذات کا تعلق ہوسکتا ہے۔

پاکستان سے براہِ راست جدہ جانے والے زائرین کے لیے پرواز کا اصل راستہ اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ جہاز کا گزرنے والا راستہ اس بات پر اثر انداز ہوتا ہے کہ کون سی میقات یا اس کی محاذات متعلقہ ہے۔

4۔ یلملم

مکہ مکرمہ سے اندازاً فاصلہ: تقریباً 100 سے 120 کلومیٹر

متعلقہ علاقہ: یمن اور مکہ مکرمہ کی جنوبی سمت

یلملم مکہ مکرمہ کی جنوبی سمت میں واقع تاریخی میقات ہے۔ یہ یمن اور جنوبی ساحلی علاقوں سے آنے والے مسافروں کے روایتی راستوں سے وابستہ ہے۔

برصغیر سے آنے والے بعض تاریخی بحری راستوں کے تناظر میں بھی اس مقام کا ذکر ملتا ہے۔ تاہم آج کے فضائی سفر میں یہ طے کرنے کے لیے کہ یلملم متعلقہ ہے یا کوئی دوسری میقات، پرواز کے اصل راستے کو دیکھنا ضروری ہے۔

5۔ ذاتِ عرق

مکہ مکرمہ سے اندازاً فاصلہ: تقریباً 90 سے 100 کلومیٹر، راستے کے مطابق

متعلقہ علاقہ: عراق اور شمال مشرقی سمت

ذاتِ عرق تاریخی طور پر عراق اور مکہ مکرمہ کی شمال مشرقی سمت سے آنے والے مسافروں کے راستے سے وابستہ میقات ہے۔

یہ مقام پانچوں میقات کی جغرافیائی ترتیب کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ تاریخی طور پر مختلف علاقوں سے مکہ مکرمہ آنے والے مسافروں کے لیے الگ الگ سمتوں میں یہ مقامات اہم رہے ہیں۔

آپ کے سفر کے لیے کون سی میقات متعلقہ ہے؟

میقات کا تعین صرف اس ملک کی بنیاد پر نہیں کیا جاسکتا جہاں سے سفر شروع کیا جارہا ہو۔ اصل سفری راستہ زیادہ اہم ہوتا ہے۔

  • پاکستان سے جدہ: پرواز کے راستے اور متعلقہ میقات کی محاذات کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔

  • پاکستان سے مدینہ منورہ، پھر مکہ مکرمہ: ذوالحلیفہ (ابیارِ علی) مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ جانے والے راستے کی معروف میقات ہے۔

  • وسطی سعودی عرب سے مکہ مکرمہ: قرن المنازل ایک اہم جغرافیائی مقام ہے۔

  • عراق یا شمال مشرقی سمت سے آنے والے مسافر: ذاتِ عرق اس سمت کی تاریخی میقات ہے۔

  • شمال مغربی سمت سے آنے والے مسافر: جحفہ، جو رابغ کے قریب واقع ہے، اس راستے کی تاریخی میقات ہے۔

میقات سے مکہ مکرمہ تک فاصلے کیسے سمجھیں؟

مختلف نقشوں اور سفری رہنماؤں میں درج فاصلے اندازاً ہوتے ہیں۔ سڑک کا فاصلہ منتخب راستے، مقام کے نقطۂ آغاز اور میقات کی شناخت کے لیے استعمال ہونے والی جگہ کے مطابق مختلف ہوسکتا ہے۔

فضائی سفر میں صورت حال مختلف ہوتی ہے، کیونکہ جہاز سیدھی سڑک کے راستے پر نہیں چلتا۔ اس لیے نقشے پر کسی میقات سے فضائی فاصلہ اس مقام سے متعلقہ جغرافیائی حد عبور کرنے کے اصل مقام کے برابر نہیں ہوتا۔

پاکستان سے براہِ راست جدہ جانے والے زائرین کو اپنے سفری انتظامات اور پرواز کے راستے کی پہلے سے تصدیق کرلینی چاہیے۔ اسی طرح مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ جانے والے زائرین کے لیے بھی راستے میں آنے والے مقامات کو پہلے سے جاننا مفید ہے۔

پانچوں میقات کے مقامات، ان سے وابستہ علاقوں اور مکہ مکرمہ سے ان کے اندازاً فاصلے کو سمجھنے سے پاکستان اور دنیا بھر سے آنے والے زائرین کو اپنے سفر کی بہتر منصوبہ بندی کرنے میں مدد ملتی ہے۔